SKU: 40871180899

سوچ زار | Soch Zar

Sale price$180.00 Regular price$200.00
Save 10%

Pay in installments of $50.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 31 - Aug 5

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

سوچ زار | Soch Zar2019 (Leisure) .

سوچ زار‘ مریم مجید ڈار کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اِن سے ابتدائی تعارف پچھلے سال ایک آن لائن ویب سائٹ پر ان کا افسانہ ”حرامی“ پڑھ کر ہوا تھا۔ اس کہانی کی فضا میں ایک گھٹن تھی۔ جوں جوں کہانی اختتام کی طرف بڑھتی ہے قاری پر طاری وحشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ کہانی کچھ اس انداز میں اختتام کی طرف بڑھتی ہے جو اس کی فضا کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
”آوارہ کتا جو بہت دیر سے کچرے میں کھانا تلاش کر رہا تھا۔ خون کی بو پا کر تھوتھنی ہوا میں اٹھاتا، سونگھتا ہوا دھجی تک آن پہنچا۔ بھوک سے بے تاب کتے نے جلد ہی ناخنوں اور پنجوں کی مدد سے نرم گوشت کے اس حرامی ٹکڑے کو چیڑ پھاڑ دیا“۔ اس کے بعد ایک دو مزید افسانے پڑھے تو احساس ہوا کہ افسانہ نگار اپنی کہانی کہنے اور اپنے اسلوب کے ذریعے ایک منفرد فضا قائم کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ہاں لیکن ان کی یہ فضا یک رخی اور مخصوص ہے، جس میں تلخی ہی تلخی ہے۔ سوچ زار 2019 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ دو سو اٹھاسی صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مجموعی طور پر ستائیس افسانے موجود ہیں اور اسے ”فکشن ہاؤس“ نے شائع کیا ہے۔
سوچ زار کا پہلا افسانہ مقدمہ ابلیس و آدم و حوا کے نام سے ہے۔ بظاہر یہ افسانہ بارگاہ ربی میں ازل کے سب سے بڑے، سنجیدہ اور ناقابل یقین واقعے کے مقدمے کی روداد ہے۔ یہ ایک ایسے ظلم کی داستان ہے جو بظاہر اس سے پہلے کسی مخلوق نے اپنی جان پر نہیں کیا تھا۔ لیکن جس طرح یہ واقعہ مٹی سے بنی مخلوق کے ہمہ جہت رنگوں کی بنیاد بنا اسی طرح یہ افسانہ اس افسانوی مجموعے میں آنے والے تمام واقعات و حوادث کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ یہ افسانہ آدم و حوا اور ابلیس کی اس تکون کی داستان ہے جو اس دنیا میں ہونے والے حادثات کو مکمل کرتی ہے۔ خلیفہ ربی اور اس کی پسلی سے پیدا کی گئی حوا جب تک جنت میں رہے وہ ہر جگہ ایک ساتھ تھے۔ لیکن بارگاہ رب میں پیش کیے گئے اس مقدمے کے دوران آدم اور حوا کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔ ان کی یکتائی اب دوئی میں بدل گئی تھی۔ اب انہیں ایک فریق نہیں بلکہ الگ الگ فریق کے طور پر اپنا موقف بارگاہ رب میں پیش کرنے کا حکم ملا۔ جس طرح بارگاہ رب میں ہوئے اس مقدمے کے دوران حوا نے اپنے تجسس کے ہاتھوں عزازیل کے فریب میں آنے کا اعتراف کیا اور جس طرح عزازیل نے آدم کے ہاتھوں ہوئی تذلیل کا بدلہ حوا کے تجسس کو جلا دے کر لیا تھا۔ اسی طرح بنت حوا کے ساتھ روا رکھے جانے والا فریب اور تذلیل کو جابجا ان افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان افسانوں کے کردار ابن آدم کی ازلی معصومیت اور بنت آدم کی متجسسانہ فطرت کے ساتھ ساتھ شیطانی وسوسوں کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ان کرداروں کے رویے، کارنامے، خیالات اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنائے گئے ہتھکنڈے کسی فرد واحد کا عمل نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جس طرح ویلز نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”لیژر“ (Leisure) میں دنیا کے حسین رنگوں بارے کہا ہے کہ ”وی ہیو نو ٹائم ٹو سٹینڈ اینڈ سٹیر“۔ اور جس طرح وہ اس نظم میں دنیا کے خوبصورت رنگوں اور خوشگوار احساسات سے روشناس کرواتا ہے، اسی طرح فاضل افسانہ نگارنے اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے ان پسے ہوئے، افلاس زدہ، کچلے گئے لوگوں کے دکھوں سے ہمیں متعارف کروایا ہے جو ہمارے آس پاس موجود تو ہیں لیکن رک کر انکے بارے جاننے کی ہمیں زندگی کی ہمہ ہمی میں فرصت نہیں ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب فاضل افسانہ نگار ہمیں خط غربت سے نیچے رہنے والے ان لوگوں کی زندگیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں تو دراصل وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو تمہارے قہقہوں، پر آسائش زندگیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوئے غریب پر کیا بیتتی ہے۔ یہ کردار اینٹوں کے بھٹے پر مشقت کرنے والے بکھی اور شوکے، گیلے بستر پر لیٹ کر اپنے بچے کو سوکھے حصے پر ڈال کر اس کی خوراک کے بارے سوچتی نسیم، ماں کی گندی گالیاں کھاتی منی اور کسی ماہر کا شکار ہونے والی بے نام لڑکی کے روپ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان افسانوں کا ایک وصف اس کا حسن تعمیر ہے۔ افسانہ نگار نے زبان و بیان کے بہترین استعمال سے نہ صرف زندگی کے رنگوں سے کہانی کو پینٹ کیا ہے بلکہ غربت، افلاس، ہوس اور پیچھے چھوٹ جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور تلخیوں سے بھرپور زندگیوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ قاری کہانی میں کھو جا تا ہے۔
”بکھی۔ کچھ تلخ سچ“ تیسرا افسانہ ہے جو کچی بستی میں رہنے والی بکھی کی کہانی ہے۔ بکھی دن کو بھٹے پر کام کرتی ہے تو رات کو اس کی کھولی میں پھیلی تعفن زدہ فضا شوکے جیسے کچی بستی کے دیگر مزدوروں کے جسمانی تناؤ کو پرسکون کرنے کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ بھٹہ مزدوروں کے تلخ شب و روز کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ نگار نے بکھی اور اس کی جھونپڑی کو جنسی آلہ کار بنا کر پیش کیا ہے۔ افسانے میں بکھی کا تعارف ان لفظوں میں کروایا گیا ہے ” بکھی بھی اسی بھٹہ بستی کا حصہ تھی۔۔۔ کالی سیاہ۔۔۔ مانو کالی کا روپ۔۔۔۔بڑی بڑی کوری آنکھیں، اینٹوں کی تگاری مسلسل سر پہ اٹھانے سے اندر کو دھنستا ماتھا اور مکرانی کنڈل والے چڑے کے گھونسلے سے بال۔۔۔۔ مگر اس کے کالے سیاہ جسم سے جنسی وحشت ایسے بہتی تھی جیسے صحرا میں چشمہ ابلتا ہے۔۔ ناک میں تانبے کا بڑا سا بلاق پہنے، لنگی میں کسا بدن اور جب وہ اینٹیں ڈھوتی تھی تو اس کے کولہوں کی اٹھتی گرتی حرکت کو کم ہی سہار پاتے۔۔۔ آدھوں کے منہ سے رال بہ رہی ہوتی اور کئی اپنی لنگی بھینچ کے رہ جاتے“۔
ایسی تگڑی کاٹھی والی عورت ہی بھٹہ مزدوروں کا بار سہنے کی ہمت رکھتی تھی لیکن شراب کے نشے میں دھت چار پانچ امیرزادوں کا بار سہارنا اس کے لیے ممکن نہ رہا۔ کچی کھولی سے ایک این جی او والے صاحب کے بنگلے تک کا سفر کرنے والی بکھی کی زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا۔ ان بھٹہ بستیوں میں پھیلی این جی او مافیا اور روزانہ کی روٹی کمانے والے بھٹہ مزدوروں کی سوچ اور زندگیوں میں تفاوت افسانے کو مزید گہرا بناتی ہے۔ پورے افسانے میں بکھی تو ہمارے سامنے کم عرصے کے لیے آتی ہے لیکن بکھی اور اس جیسے تمام بھٹہ مزدوروں کی زندگیوں میں ہر سو پھیلی غربت اور بے بسی سے پیدا ہونے والی تلخیوں کو ہم پورے افسانے میں دیکھ سکتے ہیں-
افسانہ ”حرامی“ محبت کا شکار بنی ہزاروں لڑکیوں کی داستان ہے لیکن افسانہ نگار نے جس طرح اس افسانے کا اختتام کیا ہے وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ قاری کو اختتام پر پہنچتے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک محفوظ سمجھے جانے والے ہوٹل میں ساتھ والے کیبن سے آتی سسکاریوں کی آواز کے بہروپ میں عزازیل کا پھیلایا جال، محبت کی شکار بنت حوا کے تجسس کو جلا بخشتا ہے۔ اس تجسس کی اصلیت جاننے کے لیے بنت حوا ایک ماہر شکاری کا شکار تو ہو جاتی ہے لیکن ممنوع پھل کو چکھنے کی جس سزا سے وہ گزرتی ہے، وہ سزا صدیوں پہلے دی گئی اس سزا کی مانند ہے جو حوا کو دی جاتی ہے۔ جس طرح حوا کو جنت سے محروم کر دیا گیا تھا ویسے ہی بنت حوا کے قدموں تلے بنی جنت سے اس کو محروم کرنے کی داستان ایک سوگوار فضا بنا دیتی ہے۔ اس کہانی کا اختتام ایک بنت حوا کے لیے ایک تنبیہ لیے ہوئے ہے۔ ” عین اس لمحے جب کتا اس کے نومولود کا نرخرہ چبا رہا تھا، ماہر حرف ساز اپنے آرام دہ کمرے کی نیم تاریکی میں فون کان سے لگائے اپنی نئی محبوبہ کو سسکیوں والے ریستوران میں ملنے کے لیے رضا مند کر رہا تھا“۔ گو آدم نے سزا ملنے کے بعد بھی حوا کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا لیکن آج کی دنیا میں اجتماعی غلطیوں کی سزائیں اور تکلیفیں زیادہ تر بنت حوا کو بھگتنی ہوتی ہیں جبکہ ابن آدم ماہر حرف ساز کی طرح لذت حاصل کرنے کے بعد خاموشی سے اپنا راستہ بدل کر کسی اور کی زندگی تباہ کرنے چل پڑتا ہے۔
آٹھویں افسانے کا نام ”پرایا ہاتھ“ ہے۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ہیت اور تکنیک کے حوالے سے نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک مردانہ ہاتھ کو بنایا گیا ہے۔ وہ ہاتھ جو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو چھو سکے۔ وہ ہاتھ جب کسی سیکریٹری کے بدن کو چھوتے ہوئے نئے راز تلاش کر رہا ہوتا ہے تو اس میں قدرے بے باکی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ہاتھ جب ساتھ کام کرنے والی جونیر کی کمر کے گرد گھومنے لگتا ہے تو اس کی پیش قدمی جھجھک اور ڈر سے لبریز ہوتی ہے اور یہ ہاتھ اس قدر بے باک ہوتا ہے کہ اپنی مالکن کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔ ہاتھ کا یہ تمثیلی استعمال افسانے کو دلچسپ بناتا ہے۔ اس افسانے میں کیا گیا تجربہ مزید گہرا اور وسیع ہو سکتا تھا لیکن یوں محسوس ہوا جیسے افسانہ نگار افسانے کے مرکزی کردار کی طرح اسے ختم کرنے کی جلدی میں تھیں۔
بھوک اس دنیا پر بسنے والی جانداروں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاپی پیٹ کی بھوک کو مٹانے کی خواہش انسان کو کس طرح بے بس، وحشی، بے حس اور مجبور کر دیتی ہے وہ بعض افسانوں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ افسانہ” پیٹ“ ایسی ہی غریب اور بے بس ماں کی داستان ہے۔ ماں جو اپنی اولاد کو گرمی اور حبس سے تڑپتی اور ٹھٹھرتی سردیوں میں مرتے نہیں دیکھ سکتی۔ اپنے بچوں کے لیے سڑک پار ایک کچی جھونپڑی ڈالنے کے لیے جس طرح کی محنت وہ کرتی ہے وہ ایک ماں کے ہی شایان شان ہے۔ بھوک اور غربت کی وجہ سے پیدا ہوئی بے بسی افسانہ ”لفافے کی موت“ میں پہنچ کر سفاکیت میں بدل جاتی ہے۔ یہی غربت اور بےبسی افسانہ ” اپنا اپنا جہنم“ میں آ کر اس بے حسی میں بدل جاتی ہے۔ سلطان کے ساتھ بیتا حادثہ ہمارے اجتماعی شعور پر ایک زبردست چوٹ ہے۔ سلطان جیسا محنت کر کے عزت سے جینے والا شخص بس اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں کی ہوس کا نشانہ بن گیا۔ افسانہ ”حرامی“ انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کی بھوک کے اندھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
اس افسانوی مجموعے میں جہاں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں کی پریشانیاں، غم، بھوک، درد اور تلخیاں بیان کی گئی ہیں، وہاں اس طبقے کی ہمت اور سفاکیت کی ظالمانہ حد کو بہت مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ اپنے حرامی نومولود نواسے کے ناک پر ہاتھ رکھ کر قتل کرتی ہوئی نانی اور اپنے معذور بھائی کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر شہہ رگ پر زنگ آلود قینچی پھیرتا بڑا بھائی نہ صرف سفاکیت کی انتہا پر ہوتا ہے بلکہ اس کی بے بسی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ افسانے اس معاشرے کی فرسودہ اقدار، ظالمانہ روایات اور دوسروں کی زندگیوں کو اپنی لذت کی خاطر تباہ کرنے والوں کے خلاف ایک زبردست مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں عورت کے درد کو اس قدر گہرائی سے دکھایا گیا ہے کہ زیادہ تر افسانے نسائی نقطہ نظر سے لکھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افسانے بھوک، غربت اور بے بسی کے رنگوں میں رنگ کر ایک بوجھل، تعفن زدہ اور سوگوار فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ قاری جو خوبصورت انجام اور خوشگوار واقعات پر مشتمل کہانیاں پڑھنے کے متمنی ہیں، ان کے لیے پیش لفظ میں انتباہ ہے کہ وہ ان افسانوں سے دور رہیں کیونکہ انہیں مایوسی ہوگ.
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 40871180899

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.2 ★★★★★
Based on 12 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
S
Verified Purchase
Sahay Moronta Bonet
Pawtucket, US
★★★★★ 5
100% Cotton Pillows .
Color: White, Size: Queen Size Set of 2, Color: White, Size: Queen Size Set of 2
These pillows feel soft and fluffy without being too flat. They provide nice support for the neck and feel comfortable whether sleeping on your side or back. After several nights of use, they still keep their shape well and don’t feel too warm during the night. The set comes with two pillows, which makes it really practical for the bed.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 13, 2026
W
Verified Purchase
Westmart
Houston, US
★★★★★ 5
Luxury Comfort and Perfect Support – Best Pillows Ever!
Color: White, Size: King Size Set of 2
I recently purchased the Serta Hotel collection Pillows White Goose Feather Down Fiber Gusseted, and I couldn’t be happier with my choice! These pillows are the perfect balance of softness and support — plush enough to feel luxurious, yet firm enough to keep my neck properly aligned all night. The gusseted edges really make a difference, helping the pillow hold its shape and look full even after weeks of use. The quality of the materials is excellent — the outer cover feels smooth and breathable, and there’s no feather poking out like with cheaper options. I also appreciate that they fluff back up easily after use, making the bed look hotel-perfect every morning. If you’re looking for comfortable, high-quality pillows that provide great value for the price, I highly recommend these. They’ve truly improved my sleep!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 7, 2025
K
Verified Purchase
Kristan P.
Natrona Heights, US
★★★★★ 4
Good quality pillows
Color: White, Size: Queen Size Set of 2
These are very soft and supportive as advertised. W find them a little too thick for my taste (why I only gave 4 stars), but personal preference is very subjective with pillows. They are well made and high quality, and am happy with my purchase.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 15, 2026
T
Verified Purchase
Troy D.
Port Orchard, US
★★★★★ 3
Overall, not that comfortable!
Color: White, Size: Queen Size Set of 2
Only okay. I find these pillows to be heavy, and not very conforming. Overall, not that great.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 21, 2026
C
Verified Purchase
Casandra
Lexington, US
★★★★★ 5
goose down pillows.
Color: White, Size: King Size Set of 2
Since receiving them, these king-size white goose down pillows have truly transformed my sleep. They are incredibly soft and fluffy to the touch, so plush it's hard to believe they hold their shape. Sleeping on them is like lying on a cloud. The 100% cotton cover adds extra comfort: it feels cool to the touch, breathes well throughout the night, and helps me maintain a comfortable temperature while I sleep. Furthermore, the "reinforced fiber" structure is noticeable: after several weeks of use, the pillows retain their support; they don't clump or lose their shape, ensuring consistently good rest. I find they have the ideal balance between firmness and softness: firm enough to support my neck and head, yet plush enough to adapt to my posture without creating pressure. This has improved my nights; I sleep more soundly and wake up with less stiffness in my neck. In short: these pillows combine luxury, comfort, and durability. If you're looking to improve your sleep quality with soft, firm, and breathable pillows—especially in king size—these are perfect. Definitely one of the best investments you can make for better sleep.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 30, 2025

recommand products